پاکستان کی تفریحی صنعت میں ڈیجیٹل انقلاب: پری پارو روایتی رکاوٹیں توڑ کر عوامی پلیٹ فارمز کی نیی آواز بن گییں

پری پارو

پاکستان کا تفریحی منظرنامہ ایک تاریخی اور ہمہ گیر تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں روایتی میڈیا کے فرسودہ پیمانوں کے بجایے اب خود شایقین اور اسمارٹ فونز نیے عوامی اسٹارز تراش رہے ہیں۔ ماضی کے برعکس، جب فنکاروں کی کامیابی کا دارومدار صرف ٹیلی ویژن، فلم انڈسٹری یا بڑے پروڈیوسرز کی مرضی پر ہوتا تھا، موجودہ ڈیجیٹل… اس ابھرتی ہویی ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ اکانومی کی سب سے نمایاں مثال سرگودھا سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا اسٹیج پرفارمر، رقاصہ اور اداکارہ پری پارو ہیں، جنہوں نے مرکزی دھارے کے اداروں کے سہارے کے بغیر اپنے فن کے بل بوتے پر ٹک ٹاک (@pariparoofficial909) پر چھتیس لاکھ (تین اعشاریہ چھ ملین) سے زاید فالوورز کا ایک وسیع اور فعال حلقہ تشکیل دیا ہے۔ پری پارو کا یہ سفر محض ایک عارضی وایرل ٹرینڈ یا سوشل میڈیا کا وقتی شور نہیں، بلکہ ان کی برسوں پر محیط اسٹیج پرفارمنس اور ڈیجیٹل حکمتِ عملی کا منظم امتزاج ہے۔ انہوں نے تھیٹر اور لاییو شوز کے روایتی ماحول سے جنم لینے والی اپنی پرفارمنس کو اس مہارت سے موبایل اسکرینوں پر منتقل کیا کہ ان کا فن کسی ایک مخصوص ہال یا شہر کی حدود سے نکل کر ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جانے لگا۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں خواجہ سرا برادری کو طویل عرصے سے تعلیم، روزگار اور سماجی قبولیت کی سطح پر شدید رکاوٹوں اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔ ایسے کٹھن سماجی ماحول میں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے پری پارو کو ایک باوقار عوامی شناخت بنانے اور اپنی شرایط پر فن کا مظاہرہ کرنے کا طاقتور ذریعہ فراہم کیا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی