
امریکی ایوان نمائندگان نے روس اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے متعلق اہم بل منظور کرلیا جس کے بعد قانون سازی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے لیے وائٹ ہاوس پہنچ گئی ہے۔ بل کے حق میں دو سو باسٹھ ارکان نے ووٹ دیا جبکہ ایک سو انسٹھ نے مخالفت کی۔ لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ دو ہزار چھبیس نامی یہ قانون آنجہانی سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے منسوب ہے۔ بل کو گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے بھی گیارہ کے مقابلے میں چھیاسی ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ قانون کے تحت روس کے خلاف بنیادی اور ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش ہوگی، جن کا ہدف روسی حکام، ارب پتی شخصیات، ان کے اہل خانہ، روسی بینک اور مالیاتی ادارے جبکہ یوکرین جنگ میں روس کی معاونت کرنے والے غیر ملکی افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ بل میں روس کی توانائی اور دفاعی شعبوں سمیت پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے شیڈو فلیٹ ٹینکرز کے خلاف بھی کارروائی کا راستہ کھولا گیا ہے۔ قانون سازی امریکی صدر کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ وہ ان ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر ہدفی محصولات عائد کرسکیں جو بڑی مقدار میں روسی تیل یا گیس خریدتے ہیں یا روس کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان اضافی محصولات کی شرح ایک سو فیصد تک ہوسکتی ہے۔ بل کے حامیوں کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کرنا اور یوکرین پر دباو بڑھانا ہے تاہم بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کو حاصل وسیع اختیارات اور ممکنہ طور پر امریکی اتحادی ممالک پر اثرات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ایوان نمائندگان کی منظوری کے بعد اب بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
News Source: Express News