
میر رضا کے قتل کے پیچھے چھپا اصلی چہرہ کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو اب ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں کو اب تک باقاعدہ تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور اصل حقائق پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر پولیس چیف کو اس کیس میں اتنی دلچسپی کیوں تھی کہ انہوں نے اہلخانہ کو یہاں تک مشورے دیے کہ کس کو وکیل کریں اور کس کو نہیں؟ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ تفتیش مسلسل ایک بند گلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جائے وقوعہ کے حوالے سے پولیس کے بیانات میں سنگین تضاد پایا جاتا ہے؛ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے مطابق وہاں صرف ایک گلی تھی، جبکہ حقیقت میں جہاں سے لاش ملی وہاں نو گلیاں موجود ہیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ کتنی سی سی ٹی وی فوٹیجز کو محفوظ کیا گیا اور کتنی دیکھی گئیں۔ کمیشن کی کارروائی میں تاخیر پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے توسیع کی سمری منظور کرلی ہے لیکن کابینہ کے یکم اکتوبر کے اجلاس کا انتظار کیا جا رہا ہے، حالانکہ کمیشن کی تشکیل کی منظوری ایک دن میں دی گئی تھی تو توسیع اتنی مشکل کیوں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صوبائی وزیر داخلہ مختصر نوٹس پر آ سکتے ہیں تو اعلیٰ پولیس افسران پیش ہونے سے کیوں گریزاں ہیں؟ کیس کے بعض کرداروں اور پراسرار بیانات پر روشنی ڈالتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ کا 5 اگست کا بیان اچانک درست کیوں لگنے لگا ہے؟ پورے کراچی میں کیا صرف ڈاکٹر اسامہ ہی سب سے اچھے افسر رہ گئے ہیں؟ انہوں نے انکشاف کیا کہ جہاں ڈاکٹر اسامہ کو بلانے کی خبریں آتی ہیں وہیں علی شاذ اور اے ایس پی شاہ زیب کے کردار پر سے پردہ ہٹانا بھی ضروری ہے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ گلستان جوہر میں موجود گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی جانچ کی گئی یا نہیں۔ آخر میں انہوں نے یہ چونکا دینے والا سوال بھی اٹھایا کہ آزاد خان نے کس بنیاد پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ کیس حل کر لیا گیا ہے؟ اصل قاتل کون ہیں اور پردے کے پیچھے کیا کھیلا جا رہا ہے، یہ آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔
News Source: Express News