
نیشنل کمپیوٹر ایمرج رسپانس ٹیم (این سرٹ) نے تمام صوبایی اور شعبہ جاتی کمپیوٹر ایمرج رسپانس ٹیموں (سرٹس) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مخصوص سیکیورٹی آپریشنز سینٹرز (ساک) کے قیام کے عمل کو تیز کریں اور انہیں نیشنل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر (این ساک) کے ساتھ منسلک کریں۔ اس ہدایت کے تحت ان سرٹس کو جن کے ساک ابھی تک قایم نہیں ہویے یا جن کے ساک این ساک کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، ترجیحی بنیادوں پر اس عمل کو مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ نومبر کی آخری تاریخ ایک سرکاری خط کے مطابق، صوبایی اور شعبہ جاتی سرٹس کو پہلے ہی ہدایت کی گیی تھی کہ وہ اپنے متعلقہ ساک چھ ماہ کے اندر قایم کریں اور انہیں نومبر دو ہزار چھبیس تک فعال بناییں۔ یہ ہدایت سرٹ رولز دو ہزار تیییس اور نیشنل سایبر سیکیورٹی پالیسی دو ہزار اکیس کے تحت جاری کی گیی ہے۔ این سرٹ کا کہنا ہے کہ این ساک کو پاکستان کے قومی نظام کے پہلے درجے کے طور پر قایم کیا گیا ہے تاکہ سایبر خطرات کی نگرانی، باہمی ربط اور کوآرڈینیشن کی جا سکے۔ یہ مرکز اب چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ کیی شعبہ جاتی سرٹس پہلے ہی اپنے ساک کو این ساک کے ساتھ مربوط کر چکے ہیں۔ یہ مراکز قومی مرکز کے ساتھ ٹیلی میٹری، سایبر واقعات کی فیڈز اور خطرات سے متعلق معلومات تقریباً حقیقی وقت میں شییر کر رہے ہیں۔ مخصوص ٹیموں کی ضرورت جن سرٹس نے تاحال اپنے ساک قایم نہیں کیے یا انہیں این ساک سے منسلک نہیں کیا، انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔ انہیں اس عمل کے لیے مخصوص تکنیکی فوکل پرسنز یا ٹیمیں نامزد کرنے کی بھی ہدایت کی گیی ہے۔ ان کی تفصیلات خط جاری ہونے کے سات کام کے دنوں کے اندر این سرٹ کو فراہم کی جانی چاہییں۔ سرٹس کو این ساک کے ساتھ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے سیکیورٹی واقعات کے لاگز، الرٹس اور خطرات کی معلومات کی مسلسل اور حقیقی وقت میں فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ تین درجاتی سایبر سیکیورٹی ڈھانچہ این سرٹ نے مزید ہدایت کی ہے کہ درجۂ سوم پر کام کرنے والے تنظیمی ساک اپنے متعلقہ صوبایی یا شعبہ جاتی درجۂ دوم کے ساک کے ساتھ جڑ جاییں۔ اس بندوبست کا مقصد درجۂ اول کے این ساک کے ذریعے سایبر خطرات کی مکمل قومی سطح پر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
News Source: Express News