
پاکستان ہاکی کے مایہ ناز سابق اولمپین خواجہ ذکا الدین 89 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ بطور فارورڈ کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خواجہ ذکا الدین نے 1958 سے 1966 کے دوران 56 بین الاقوامی میچز میں 26 گول اسکور کیے۔ وہ 27 اکتوبر 1936 کو مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے اور 1960 کے روم اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی قومی ہاکی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والی قومی ٹیم کے بھی اہم رکن رہے۔ علاوہ ازیں خواجہ ذکا الدین 1958 کے ٹوکیو ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی قومی ٹیم میں شامل تھے جبکہ 1962 کے جکارتہ ایشین گیمز میں بھی کامیابی حاصل کر کے اعزاز کا دفاع کرنے والی ٹیم کا حصہ بنے۔ انہوں نے 1966 کے بینکاک ایشین گیمز میں سلور میڈل پانے والی ٹیم کی بھی نمائندگی کی۔ اس طرح انہیں مسلسل تین ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل رہا۔ سال 2009 میں ٹریفک پولیس سے بطور ڈی ایس پی ریٹائر ہونے والے خواجہ ذکا الدین کو ہاکی کے شعبے میں شاندار خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔ خواجہ ذکا الدین نے مختلف ادوار میں قومی ہاکی ٹیم کے کوچ، چیف سلیکٹر اور مینیجر کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ اولمپین توقیر ڈار ان کے داماد تھے جبکہ ان کے چاروں صاحبزادے کامران ذکا، عرفان ذکا، عمران ذکا اور سلمان ذکا بھی ہاکی کے بہترین کھلاڑی رہے ہیں۔ دریں اثنا سابق قومی کپتان اولمپین حنیف خان، اولمپین سمیع اللہ خان، اولمپین اصلاح الدین صدیقی، اولمپین حسن سردار، اولمپین شہناز شیخ، اولمپین ناصر علی، اولمپین شہباز جونیئر، اولمپین وسیم فیروز، اولمپین منظور الحسن، اولمپین رشید الحسن اور اولمپین افتخار سید سمیت دیگر کھلاڑیوں نے خواجہ ذکا الدین کی رحلت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ہاکی کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
News Source: Express News