
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے دوران بھارتی کپتان پر حملہ کرنے والے عمانی معاون پائلٹ نے انتہا پسندانہ نظریاتی تربیت حاصل کی تھی۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس واقعے کی تہہ تک جائے گا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے کوئی ساتھی بھی تھے۔ ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملے میں ایران ملوث تھا، تاہم آنے والے دنوں میں تحقیقات سے اس حوالے سے مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور بظاہر خودکشی پر مائل اور انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر تھا۔ واقعے کے پس پردہ محرکات اور کسی تنظیم یا ملک سے تعلق کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق قابو پائے جانے کے بعد اس نے مجھے مار دو کے الفاظ بھی کہے، تاہم اس کے مکمل پس منظر اور محرکات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے پرواز کے بھارتی کپتان کی بہادری کو بھی سراہا جنہوں نے عمانی نژاد معاون پائلٹ کے چاقو کے حملے کا دلیری سے مقابلہ کیا اور مسافروں کی جان بچائی۔ نیتن یاہو کے بقول بھارتی پائلٹ نے شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی جس سے مسافروں اور عملے کو حملہ آور پر قابو پانے میں مدد ملی۔ یاد رہے کہ مذکورہ پرواز دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی کہ 35 ہزار فٹ کی بلندی پر عمانی معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر چاقو سے حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی جس کے دوران جہاز 18 ہزار فٹ نیچے آ گیا تھا۔ طیارے میں موجود دو دیگر فلائی دبئی پائلٹس نے بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا جہاں مسافروں کے طبی معائنے کے بعد انہیں متبادل طیارے سے تل ابیب پہنچایا گیا۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے معاون پائلٹ کے عمانی شہری ہونے کے دعوے پر عمان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ اسرائیلی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا مشتبہ شخص، جس کی باضابطہ شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی، کیا عمان اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتا تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سفری پابندیاں نہایت سخت ہیں۔ عمان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور عمانی شہریوں کو اسرائیل میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس واقعے کی دہشت گردی سمیت تمام پہلووں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ بلیک باکس اور مسافروں کی بنائی گئی ویڈیوز سے مزید شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں۔ تاحال معاون پائلٹ کے اس اقدام کی کوئی ٹھوس وجہ اور عزائم سے متعلق تفصیل سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب، مبینہ ایرانی تعلق اور حملے کا حتمی محرک ابھی ثابت نہیں ہوا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ابتدائی جائزے میں حملہ آور معاون پائلٹ کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
News Source: Express News