
آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک اور آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے گولے یا کسی حملہ آور شے سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کا نظام معطل ہوگیا۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز کے مرکز نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر کی طرف نکل رہا تھا۔ جہاز کے کپتان نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹینکر پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی سمندر میں تیل یا کسی دوسری آلودگی کے اخراج کی تصدیق ہوئی ہے۔ برطانوی بحری حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے سے گزرنے والے دیگر جہازوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بحری جہازوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران آبنائے ہرمز کے مقام پر متعدد تجارتی جہاز نامعلوم سمت سے فائر کیے جانے والے گولوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تیل بردار جہازوں کو نامعلوم گولوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ خیال رہے کہ خلیجی خطے میں آبنائے ہرمز بین الاقوامی منڈیوں تک تیل پہنچانے کی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اسی باعث یہاں پیش آنے والے واقعات کے سبب عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
News Source: Express News