
ایپل اپنے میک او ایس کے فل ڈسک ایکسیس فیچر میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ کچھ ڈویلپرز اس اجازت نامے کو اس انداز میں استعمال کر رہے ہیں جس سے صارفین کے مکمل طور پر سمجھے بغیر ان کی فائلیں، ای میلز، پیغامات اور براوزنگ ہسٹری افشا ہو سکتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اضافی کنٹرولز متعارف کروائے گی تاکہ ایپس کو یہ رسائی صرف صارف کے انتہائی واضح اقدام کے بعد ہی مل سکے۔ ایپل نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے زیادہ باصلاحیت اور خود مختار بننے کے ساتھ یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ میٹا کے میوز سے متعلق واقعے نے سوالات اٹھا دیے ایپل کا یہ اعلان ٹیکنالوجی کالم نگار جیسن ایٹن کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ میٹا کے میوز نامی اے آئی ایجنٹ نے ان کی ایپل میسجز کی ایک نجی گفتگو کی بنیاد پر انہیں ایک غیر مطلوبہ نوٹیفکیشن بھیجا تھا۔ ایٹن کے مطابق انہوں نے جان بوجھ کر میوز کو اپنے پیغامات پڑھنے کی ہرگز کوئی اجازت نہیں دی تھی۔ دوسری جانب میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ڈیوڈ سنگلٹن نے اس بات سے اختلاف کیا کہ میوز صارف کی جانب سے درکار سیٹنگز کو آن کیے بغیر پیغامات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میسجز کی شمولیت اختیاری ہے اور اس کے لیے فل ڈسک ایکسیس اور میوز میسجز کنیکٹر دونوں کا فعال ہونا ضروری ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ فل ڈسک ایکسیس پیغامات کو ظاہر کر سکتا ہے اگرچہ ایپل نے براہ راست میٹا یا میوز کا نام نہیں لیا، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ فل ڈسک ایکسیس کی مدد سے ایپس پیغامات، ای میل، فائلز اور براوزنگ ہسٹری جیسی حساس معلومات دیکھ سکتی ہیں۔ سیکیورٹی محقق پیٹرک وارڈل نے بھی اس موقف کی تائید کی کہ فل ڈسک ایکسیس رکھنے والی ایپس تکنیکی طور پر میک پر موجود زیادہ تر نان روٹ فائلیں پڑھ سکتی ہیں، جن میں چیٹس، براوزر کوکیز اور براوزنگ ڈیٹا شامل ہیں۔ میوز کو سیکیورٹی سے متعلق دیگر مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایپل کا یہ فیصلہ میوز کی ایک ایسی خامی کے سامنے آنے کے بعد بھی ہوا ہے جس کے تحت سسٹم میں مقامی طور پر چلنے والی ایپس یا کمانڈز اس اے آئی اسسٹنٹ کا کنٹرول سنبھال سکتی تھیں اور اس کے اختیارات کو استعمال کر سکتی تھیں۔ میٹا نے بعد میں اس مسئلے کو حل کر دیا تھا۔ یہ تمام واقعات ان پرائیویسی اور سیکیورٹی خطرات کو واضح کرتے ہیں جو اے آئی ایجنٹس کو ذاتی ڈیٹا اور سسٹم لیول کی اجازت ملنے کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایپل نے فی الحال اس بات کی حتمی تفصیلات نہیں بتائیں کہ فل ڈسک ایکسیس کے نئے کنٹرولز کس طرح کام کریں گے یا انہیں باقاعدہ طور پر کب پیش کیا جائے گا۔
News Source: Express News