
صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ ہزارہ تحریک نے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں 4 اکتوبر کو ہری پور میں صوبہ ہزارہ کنونشن، جبکہ 11 اکتوبر کو بٹگرام اور 18 اکتوبر کو کراچی میں بڑے کنونشنز منعقد کیے جائیں گے۔ یہ بات انہوں نے سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر تحریک کی سینئر قیادت کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس اجلاس میں مرکزی کوآرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر، بریگیڈیئر (ر) شہزاد اعوان، امتیاز اسٹور کے چیئرمین امتیاز عباسی، مولانا چراغ الدین شاہ، قاری محبوب الرحمن اور سینئر صحافی اشتیاق عباسی نے شرکت کی۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے اس سے قبل بھی ملک بھر میں جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی جا چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی تین مرتبہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد منظور کر چکی ہے اور وفاق کے دونوں ایوانوں میں بھی اس کا بل موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک کو عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے اور اسی لیے ایک بار پھر عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے وسائل مرکز سے صوبوں تک تو پہنچ جاتے ہیں مگر نچلی سطح تک منتقل نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے بتایا کہ 4 اکتوبر کو ہری پور میں تاریخی صوبہ ہزارہ کنونشن منعقد ہوگا، جس میں سول سوسائٹی، علماء، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ امتیاز عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہزارہ عوام کی امنگوں اور امیدوں کا محور ہے، صوبے کا قیام عمل میں آنے سے دنیا بھر سے سیاح اس خطے کا رخ کریں گے۔ بریگیڈیئر (ر) شہزاد اعوان نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے قیام سے وفاق کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، لہٰذا اس معاملے کو اب زیادہ طویل نہیں کھینچنا چاہیے۔ مرکزی کوآرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ صوبہ ہزارہ تحریک نے بھرپور رابطہ عوام مہم چلانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ ہری پور اور بٹگرام کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ذمہ داران سے رابطے کر کے مشاورت کی جائے گی تاکہ کنونشنز کو مکمل طور پر کامیاب بنایا جا سکے۔
News Source: Express News