
عراق میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والی امریکی فوجی موجودگی کا ایک اہم باب بدھ کے روز اس وقت ختم ہو گیا جب امریکا نے عراق سے اپنے آخری فوجی بھی واپس بلا لیے۔ ایران نے اس پیش رفت کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ امریکی فوج کا آخری دستہ زیادہ تر عراقی کردستان کے علاقے اربیل میں قائم ایک فضائی اڈے سے روانہ ہوا۔ عراق میں امریکی فوجی موجودگی 2003 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خطے کی سیاست اور سلامتی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں امریکی فوج کا انخلا ایسے وقت میں مکمل ہوا جب رواں سال خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات عراق تک بھی پہنچے۔ امریکی فوجی دستے عراق میں موجود مسلح گروہوں کے ساتھ نبرد آزما رہے جس کے باعث بغداد کو پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فروری میں اسرائیل کے ساتھ شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے بعد عراق میں سات امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ ان میں آخری ہلاکت جولائی میں اربیل کے قریب ایک فوجی اڈے پر ہوئی، جہاں ایک امریکی فوجی سارجنٹ ڈرون کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران جان سے گیا۔ ایران طویل عرصے سے مشرق وسطی سے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ تہران عراق سے امریکی فوجی انخلا کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل نام نہاد مزاحمتی محور کے لیے اہم کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ تاہم امریکی انخلا کے باوجود خطے میں واشنگٹن کی مجموعی فوجی اور سیاسی موجودگی کے حوالے سے صورتحال بدستور اہم ہے۔ عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد بغداد کو اپنی سلامتی اور علاقائی توازن سے متعلق نئی صورتحال کا سامنا ہوگا۔
News Source: Express News