
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ اس کے پاس 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے یا تمام پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق لازمی قرار دینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ رٹ پٹیشن نمبر 4163 آف 2026 میں جمع کروائی گئی اپنی رپورٹ میں پی ٹی اے نے کہا کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعہ 37 کے تحت اسے مخصوص قانونی بنیادوں پر غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک یا ہٹانے کی اجازت حاصل ہے۔ تاہم یہ قانون ریگولیٹر کو سوشل میڈیا صارفین کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے یا عمر کی تصدیق کا ہمہ گیر نظام متعارف کروانے کا اختیار نہیں دیتا۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نظام کے نفاذ کے لیے ایک الگ قانونی اور ریگولیٹری ڈھانچے کی ضرورت ہوگی، جس میں تصدیق کے طریقے، صارفین کی عمر چیک کرنے کی ذمہ داری، شناختی معلومات کی حفاظت، نجی معلومات کے تحفظ، پلیٹ فارمز کی جانب سے عمل درآمد، آڈٹ اور سزاوں کا تعین شامل ہو۔ ریگولیٹر کے مطابق وہ مخصوص قانونی اختیارات کے بغیر کسی انتظامی حکم کے ذریعے یہ شرائط نافذ نہیں کر سکتا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آسٹریلیا اور یورپی یونین جیسے ممالک میں عمر سے متعلق عائد کی گئی پابندیاں ان کے اپنے مقامی قوانین کے تحت ہیں، اس لیے ان کی بنیاد پر پاکستان میں پی ٹی اے کو ازخود ایسے اختیارات نہیں مل سکتے۔ پی ٹی اے نے واضح کیا کہ وہ شکایات پر کارروائی، رپورٹ کیے گئے مواد کا جائزہ لینے، سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ رابطے اور موجودہ قانون کے تحت مواد بلاک کرنے کے اقدامات بدستور جاری رکھ سکتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے، عمر کا ہمہ گیر ڈیٹا بیس بنانے یا کمپنیوں پر عمر کی تصدیق لازمی قرار دینے کے لیے باقاعدہ اور واضح قانون سازی درکار ہوگی۔
News Source: Express News