
دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز میں دوران سفر پیدا ہونے والی سنگین اور غیر معمولی صورتحال کے بعد مسافروں کو متبادل طیارے کے ذریعے بالآخر اسرائیل پہنچا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق غیر ملکی فضائی کمپنی کی ایک پرواز کے دوران فضا میں پائلٹوں کے درمیان تنازع پیدا ہوا جس کے بعد طیارے کا رخ ہنگامی طور پر سعودی عرب کی جانب موڑ کر تبوک کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا گیا۔ طیارے میں اسرائیلی شہریوں سمیت درجنوں مسافر سوار تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران طیارہ 37 ہزار فٹ کی بلندی سے اچانک تیزی کے ساتھ نیچے آیا اور تقریباً 18 ہزار فٹ کی سطح تک پہنچ گیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاون پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تاہم اسے مبینہ طور پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں پائلٹوں کے درمیان مبینہ طور پر ہاتھا پائی بھی ہوئی جس سے طیارہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوا۔ سنگین خطرے کے پیش نظر طیارہ اغوا ہونے کا مخصوص ہنگامی کوڈ بھی جاری کر دیا گیا۔ بعد ازاں پرواز کا رخ اردن کی فضائی حدود سے تبدیل کر کے سعودی عرب کے شہر تبوک کی طرف موڑ دیا گیا جہاں لینڈنگ کے فوری بعد سعودی سیکیورٹی فورسز نے طیارے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ واقعے کے فوری بعد دونوں پائلٹوں کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں پرواز کے ڈیٹا اور بلیک باکس کا معائنہ کر رہی ہیں تاکہ فضا میں پیش آنے والے جھگڑے اور اصل حقائق کا تعین کیا جا سکے۔ دوسری جانب تبوک کے ہوائی اڈے پر موجود مسافروں کو ایک متبادل پرواز کے ذریعے اسرائیل کے شہر تل ابیب روانہ کر دیا گیا جہاں وہ خیریت سے پہنچ گئے۔
News Source: Express News