
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جل تھلیوں یعنی ایمفیبیئنز کی آنتوں میں پایا جانے والا ایک بیکٹیریا چوہوں میں بڑی آنت کے کینسر کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ جاپان ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایونگیلا امیریکانا نامی بیکٹیریا کو الگ کر کے لیبارٹری میں اس کی افزائش کی اور اسے رگ کے ذریعے کینسر کے شکار چوہوں کے جسم میں داخل کیا۔ اس تحقیق کے دوران جاپانی درختی مینڈک، فائر بیلی نیوٹ اور گھاس والی چھپکلیوں کی آنتوں سے بیکٹیریا کی 45 مختلف اقسام حاصل کی گئی تھیں۔ سائنسی جریدے گٹ مائیکروبز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان میں سے نو اقسام نے کینسر کے خلاف موثر کارکردگی دکھائی، تاہم ایونگلیا امیریکانا کے نتائج سب سے بہترین رہے۔ محققین کا بتانا ہے کہ اس بیکٹیریا کی صرف ایک انجکشن خوراک نے چوہوں میں موجود کینسر کی رسولیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا، جس کی کامیابی کی شرح 100 فیصد رہی۔ تحقیق میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ایونگلیا امیریکانا نہ صرف براہ راست رسولیوں پر حملہ آور ہوتا ہے بلکہ جسم کے مدافعتی نظام کو بھی متحرک کرتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی مزید تحقیقات اور انسانی آزمائشیں بھی کامیاب رہیں تو یہ دریافت کینسر کی ایسی اقسام کے علاج کے لیے ایک نئی امید بن سکتی ہے جن سے نمٹنا فی الحال انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
News Source: Express News