-->

منوج باجپائی کا آواز اور تصویر کے مبینہ اے آئی استعمال پر دہلی ہائی کورٹ سے رجوع

News Image

بھارتی اداکار منوج باجپائی نے اپنی تصویر، آواز اور دیگر شناختی علامات کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف اپنے شخصیتی حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ کیس کی سماعت پیر کے روز جسٹس پروشندرا کمار کورو نے کی، جبکہ عدالتی رپورٹ کے مطابق منوج باجپائی کی جانب سے سینیئر وکیل سواتھی سوکمار عدالت میں پیش ہوئیں۔ منوج باجپائی کی درخواست میں ان کی تصاویر کے مبینہ تجارتی استعمال اور اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ان کی آواز تیار کیے جانے پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس قانونی کارروائی میں فریق بنائے جانے والوں میں 'ایچ ٹو پی جی ڈیزائنز پرائیویٹ لمیٹڈ' نامی کمپنی بھی شامل ہے۔ باجپائی کا الزام ہے کہ اس کمپنی نے ان کی تصاویر کو اس انداز میں استعمال کیا جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ اس برانڈ کے تیار کردہ سوٹ پہن رہے ہیں۔ اداکار نے اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی آواز کی نقل تیار کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کی قانونی درخواست میں ایسے اے آئی چیٹ بوٹس سے بھی تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے جو ان کی شخصیت کے نمایاں عناصر کو نقل یا استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت، معروف شخصیات کی شناخت اور ان کے شخصیتی حقوق سے جڑے بڑھتے ہوئے قانونی مسائل کو نمایاں کرتا ہے۔ جدید اے آئی ٹولز کسی بھی فرد کی آواز، چہرے اور دیگر شناختی خصوصیات کی حقیقت سے قریب تر نقل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے رضامندی اور تجارتی مقاصد کے لیے ان کے استعمال پر نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ پیر کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ چونکہ باجپائی بنیادی طور پر ممبئی میں مقیم ہیں، اس لیے کیا یہ معاملہ دہلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس پر باجپائی کی قانونی ٹیم نے دلیل دی کہ چونکہ مقدمے میں نامزد بعض فریقین دارالحکومت دہلی میں موجود ہیں، اس لیے دہلی ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے اداکار کے وکلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ شخصیتی حقوق کے تحفظ سے متعلق پرانے عبوری اور حتمی عدالتی احکامات کا ریکارڈ پیش کریں۔ اس میں دیگر ہائی کورٹس کے متعلقہ فیصلے بھی شامل ہونے چاہییں تاکہ باجپائی کے دعووں کے جائزے کے لیے درکار قانونی نظائر سامنے آ سکیں۔ شخصیتی حقوق بنیادی طور پر کسی بھی انسان کی شناخت کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں، بالخصوص جب کسی کا نام، تصویر یا چہرہ بغیر اجازت تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس دور میں شناخت کی نقل تیار کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے، جس کے باعث ایسے قانونی تنازعات کی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اداکاروں اور دیگر عوامی شخصیات کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اضافی مشکلات کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ ان کی عملی شرکت کے بغیر بھی ان سے مشابہ آوازیں اور تصاویر باآسانی تیار کی جا سکتی ہیں۔ تاہم دائرہ اختیار پر عدالت کے سوالات اور سابقہ عدالتی نظائر کی طلب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی