ذیابیطس کی ممکنہ علامات کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا ٹول تیار

News Image

سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا نیا ٹول تیار کیا ہے جو انسانی آواز کی ریکارڈنگ کا تجزیہ کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کی ممکنہ علامات کا سراغ لگا سکتا ہے۔ فی الوقت ذیابیطس کی تشخیص عام طور پر خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے، جس سے گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران خون میں شکر کی اوسط سطح کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ان افراد کا کیا جاتا ہے جن میں مسلسل تھکن، بغیر کسی ارادے کے وزن میں کمی اور ہر وقت شدید پیاس لگنے جیسی علامات ظاہر ہوں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نیا ٹول ٹیکنالوجی کمپنی تھائمیا اور آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میلبورن کے محققین نے تیار کیا ہے۔ یہ آلہ بنانے والے ماہرین کے مطابق آواز کا تجزیہ بیماری کی ابتدائی علامات جانچنے کا ایک تیز رفتار اور بغیر کسی جراحی کا طریقہ بن سکتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی میں آواز میں آنے والی باریک تبدیلیوں، مثلاً بھاری یا کھردری آواز اور سانس پھولنے جیسی کیفیات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور صرف 20 سیکنڈ کے اندر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی فی الحال روایتی طبی تشخیص کا مکمل متبادل نہیں ہے، لیکن ذیابیطس کی ممکنہ موجودگی کی بروقت نشاندہی کے لیے یہ ایک اہم تحقیقاتی پیش رفت ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی