
دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کا واقعہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ان کی انتخابی مہم میں سیاسی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ آئرش ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں سیکیورٹی کے بیانیے کو مضبوط کر سکتا ہے اور کرپشن کیسز سمیت حماس کے حملے کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنے والے اور تیزی سے غیر مقبول ہوتے نیتن یاہو کے لیے ایک نادر موقع ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور نیتن یاہو اس واقعے کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اسے سیکیورٹی خطرات کا ثبوت بنا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ نئی حکومت میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں۔ نیتن یاہو کی موجودہ حکومت اتحادی جماعتوں کے سہارے پر کھڑی ہے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کا حملہ روکنے میں ناکامی اور غزہ کی جنگ میں فوجیوں کے بھاری جانی و مالی نقصان کے باعث ان کی حکومت کو عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو بدعنوانی کے سنگین مقدمات کا بھی سامنا ہے جن میں وہ صدر اسحاق ہرزیوگ سے معافی کے طلب گار ہیں، جب کہ امریکی صدر نے بھی اسرائیلی ہم منصب سے نیتن یاہو کے کیسز میں معافی دینے کی درخواست کر رکھی ہے۔ تاہم اسرائیلی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ان مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے جس کی وجہ سے پہلے سے غیر مقبول نیتن یاہو پر نااہلی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔ ایسے نازک موڑ پر اب عام انتخابات سامنے آ گئے ہیں۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو گرانے یا اغوا کرنے کی کوشش کی ناکامی اور عمانی نژاد معاون پائلٹ کی رنگے ہاتھوں گرفتاری کو نیتن یاہو اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھی اکتوبر 2023 کے حماس حملے کی طرح سیکیورٹی کی بڑی غفلت، ناکامی اور لاپروائی کا ہی تسلسل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت نے ایک دفعہ پھر تمام اسرائیلیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اصل میں داد کے مستحق وہ بھارتی پائلٹ اور مسافر ہیں جنہوں نے بہادری دکھا کر ہائی جیکنگ کی یہ کوشش ناکام بنائی، ورنہ آج ملک میں صرف سوگ کا ماحول ہوتا۔ واضح رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران عمانی نژاد معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر بھارتی کپتان سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، جس پر مسافروں نے بروقت قابو پا کر اسے ناکام بنا دیا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ معاون پائلٹ انتہا پسند اسلامی نظریات کا شکار تھا، جب کہ اب رپورٹ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر القاعدہ سے متاثر تھا، تاہم اس دعوے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔
News Source: Express News