
انگلش پریمیر لیگ نے مانچسٹر سٹی کے خلاف مالی بے ضابطگیوں سے متعلق 130 الزامات پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں فٹبال کلب کو مالی ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے متعدد الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک آزاد کمیشن کی رپورٹ کے مطابق نو سیزنز کے دوران پریمیر لیگ کے مالی قواعد کی سنگین خلاف ورزیوں پر مانچسٹر سٹی کے خلاف لگایے گیے الزامات درست ثابت ہویے ہیں۔ اس کے علاوہ کلب کے خلاف لیگ کی تفتیش میں تعاون نہ کرنے سے متعلق بھی زیادہ تر الزامات سچ ثابت ہو چکے ہیں۔ پریمیر لیگ کے مطابق کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مانچسٹر سٹی نے تقریبا ایک دہایی تک لیگ کے قوانین کی باقاعدہ اور منظم انداز میں خلاف ورزی کی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کلب نے متعدد کاروباری شراکت داروں کے ساتھ ایسے جعلی یا دکھاوے کے معاہدے کیے جن میں دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والے اصل معاملات کی درست تصویر پیش نہیں کی گیی تھی۔ کمیشن کے مطابق اس طرح کے معاہدوں کا بنیادی مقصد کلب کی آمدنی کو مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور اخراجات کو کم ظاہر کرنا تھا۔ رپورٹ میں تقریبا 90 کروڑ پاونڈ کی خطیر رقم سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم اس رقم اور الزامات کی تفصیلات کو کمیشن کی تفصیلی رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔ مانچسٹر سٹی کو مجموعی طور پر 100 سے زیادہ الزامات میں قصوروار قرار دیے جانے کے بعد انگلش فٹبال میں ایک بار پھر مالیاتی قوانین اور ان پر عمل درآمد سے متعلق نیی بحث شروع ہو گیی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مانچسٹر سٹی کو کس نوعیت کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم سامنے آنے والی تجاویز میں حاصل کردہ پوانٹس کی بڑی کٹوتی اور لیگ سے باہر نکالا جانا تک شامل ہے۔
News Source: Express News