
چین میں ٹیکنالوجی کی دنیا نے ایک حیران کن سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں ایک روبوٹ نے انسانی رنرز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہاف میراتھن جیت لی۔ آنر کمپنی کے تیار کردہ لائٹننگ نامی اس اینڈرائیڈ روبوٹ نے بیجنگ میں ہونے والی ہاف میراتھن میں اکیس کلومیٹر کا فاصلہ صرف پچاس منٹ اور چھبیس سیکنڈ میں طے کیا۔ اس کارکردگی کے ساتھ اس نے انسانی عالمی ریکارڈ کو بھی چھ منٹ سے زائد وقت سے پیچھے چھوڑ دیا۔ یوگانڈا کے رنر جیکب کپلیمو نے یہ فاصلہ ستاون منٹ بیس سیکنڈ میں طے کرکے عالمی ریکارڈ اپنے نام کر رکھا ہے۔ ایک سو انہتر سینٹی میٹر قد والے اس سرخ رنگ کے ہیومینائیڈ روبوٹ نے دوڑ کے دوران غیر معمولی رفتار اور توازن کا مظاہرہ کیا اور اختتام تک بغیر کسی سستی کے دوڑتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس کی خودکار نیویگیشن اور طاقتور اسپیڈ اس کامیابی میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ یہ کامیابی چین کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل طاقت کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ امریکا کے ساتھ جدید روبوٹکس کے میدان میں مقابلہ کر رہا ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے دو ہزار پندرہ سے روبوٹکس پر خصوصی توجہ اور دو ہزار تئیس کی پالیسی میں ہیومینائیڈ روبوٹس کو مستقبل کی ٹیکنالوجی قرار دینا، اس پیش رفت کی بنیاد بنا۔ حالیہ برسوں میں چین میں روبوٹ کھیلوں کے مقابلے بھی تیزی سے مقبول ہوئے ہیں جو اس شعبے کی ترقی کا واضح ثبوت ہیں۔
News Source: Express News