
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور لمز کے محققین نے پاکستان کی پہلی پائیدار کیمسٹری لیبارٹری کے قیام کے لیے برطانیہ کی نامور رائل سوسائٹی آف کیمسٹری سے 10 ہزار پاونڈز کی گرانٹ جیت لی ہے۔ یہ منصوبہ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے 2026 کے فنڈز کے لیے دنیا بھر سے منتخب کیے گئے محض 23 منصوبوں میں شامل ہے، جو کہ پاکستانی سائنس دانوں کے لیے ایک بڑا عالمی اعزاز ہے۔ اس جدید منصوبے کی قیادت انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف اور لمز کے پی ایچ ڈی محقق اور پرانے راوین حسن یعقوب کر رہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد الطاف نے واضح کیا کہ یہ ماڈل لیبارٹری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں قائم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد روایتی لیبارٹریوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو روکنا ہے۔ اس لیب میں جدید مائیکرو ڈسٹلیشن نظام کے تحت استعمال شدہ سالوینٹس اور کیمیکلز کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں صاف کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ طلبا اور لیب کے عملے کو ماحول دوست اور محفوظ سائنسی تحقیق کی تربیت بھی دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ویژن صرف ایک لیب تک محدود نہیں بلکہ ہم ایک ایسا ماحول دوست اور کم خرچ ماڈل متعارف کروانا چاہتے ہیں جسے مستقبل میں ملک بھر کی دیگر جامعات اور تحقیقی اداروں میں بھی اپنایا جا سکے۔ اس اہم منصوبے میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین کا اشتراک بھی شامل ہے، جن میں کوئین میری یونیورسٹی لندن کے پروفیسر کرسچین نیلسن، لمز کے ڈاکٹر غیور عباس چٹانہ، پروفیسر راجہ شاہد اشرف اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی ڈاکٹر منزہ شاہد شامل ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر محمد عمر چوہدری نے اس عالمی پذیرائی پر تحقیقی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کی اولین ترجیح ایسی تحقیق کا فروغ ہے جس کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں پاکستان کی پہلی پائیدار کیمسٹری لیب کا قیام ہمارے اس عزم کا عکاس ہے کہ ہم ایسی سائنس کو پروان چڑھائیں جو علم کے ساتھ ساتھ ہمارے ماحول اور وسائل کا بھی تحفظ کرے۔
News Source: Express News